Table of Contents
کرتارپور راہداری کھولنے کے مطالبے کے لیے سکھ سنگت نے زیرو لائن پر مذہبی رسومات ادا کیں۔
پاکستان میں سکھ سنگت نے کرتارپور راہداری کے زیرو لائن تک پہنچ کر خصوصی ارداس کی۔
اس موقع پر شبد کیرتن اور آرتی میں بھی شرکت کی گئی۔ سکھ سنگت نے مذہبی رسومات ادا کیں۔
بھارتی جانب سکھ سنگت کو روکا گیا
بھارتی جانب سیکیورٹی فورسز نے سکھ سنگت کو زیرو لائن کی طرف بڑھنے سے روک دیا۔
یہ سنگت اکال تخت کے قائم مقام جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج کی قیادت میں موجود تھی۔
بھارتی حکام کے مطابق سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت سنگت کو مقررہ حدود میں رہنا تھا۔ اس کے باوجود کچھ افراد زیرو لائن کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
روکے جانے کے بعد جتھیدار اور سکھ سنگت نے بیریئر کے قریب بیٹھ کر مذہبی رسومات ادا کیں۔
انہوں نے راہیرس صاحب کا پاٹھ کیا۔ اس کے بعد شبد کیرتن اور ارداس کی گئی۔
ارداس میں کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کی دعا کی گئی۔
پاکستان میں مذہبی آزادی کی بات
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان نے 2019 میں سکھ قوم کو کرتارپور راہداری کا تحفہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔
راہداری کھولنے کا مطالبہ
بھارت میں اکال تخت کے قائم مقام جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج نے راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کرتارپور صاحب کی زیارت کے لیے راہداری کھلنے کی خواہاں ہے۔
ان کے مطابق راہداری دوبارہ کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان ماحول بہتر ہوسکتا ہے۔
کرتارپور راہداری بھارت کے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور سے ملاتی ہے۔
یہ راہداری نومبر 2019 میں کھولی گئی تھی۔ اس کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری بغیر پاکستانی ویزے کے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کرسکتے تھے۔
مذہبی ہم آہنگی کی علامت
کرتارپور راہداری سکھ مذہب کے اہم ترین مقامات میں سے ایک تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ راہداری مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے۔
سکھ برادری کی جانب سے راہداری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی جاری ہے۔
