Table of Contents
پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس نیویارک میں ہوا۔
اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوا۔ چاروں وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر کو ملاقات کی۔
اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور وسیع خطے کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔
امن اور سفارت کاری پر زور
وزرائے خارجہ نے چاروں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ضروری ہیں۔
انہوں نے دیرپا امن کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
سعودی عرب پر حملوں کی مذمت
وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف تمام حملوں کی شدید مذمت کی۔
بیان میں حالیہ حوثی حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ چاروں ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی بھی توثیق کی۔ یہ حق بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ہے۔
وزرائے خارجہ نے بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یمن میں سیاسی عمل کی حمایت
اجلاس میں یمن کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزرائے خارجہ نے یمن کی جائز حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے یمن میں سیاسی عمل آگے بڑھانے پر زور دیا۔ مختلف یمنی فریقوں کے درمیان جامع مذاکرات کی حمایت بھی کی گئی۔
وزرائے خارجہ کے مطابق سیاسی مکالمہ یمن میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اہم ہے۔
فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت
وزرائے خارجہ نے فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ان حقوق میں حق خودارادیت بھی شامل ہے۔ وزرائے خارجہ نے 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔
ان کے مطابق مشرقی یروشلم اس ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ ریاست کو آزاد، خودمختار، قابل عمل اور باہم متصل ہونا چاہیے۔
سوڈان کی خودمختاری کی حمایت
چاروں وزرائے خارجہ نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سوڈان کے جائز قومی اداروں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے ایسے متوازی اداروں کی مخالفت کی جو سوڈان کی وحدت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان میں اسلحے، کرائے کے جنگجوؤں اور غیر ملکی جنگجوؤں کی غیر قانونی ترسیل روکنے پر بھی زور دیا۔
علاقائی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق
وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر رابطہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے باہمی مشاورت برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات کی۔
یہ ملاقات بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خوشگوار ماحول میں گفتگو کی۔ انہوں نے پاکستان اور کویت کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا۔
فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں جانب سے تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے امن اور استحکام کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
