Table of Contents
سیول: امریکا نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں مقررہ وقت سے ایک ہفتہ پہلے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی اقدام پر جنوبی کوریا کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے اس فیصلے پر پارلیمنٹ میں گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ مشقوں میں کمی کے فیصلے میں ایران جنگ سے متعلق پیغام بھی ہوسکتا ہے۔
ایران جنگ میں شمولیت کے دباؤ کا خدشہ
چو ہیون کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم میں ایک اہم پیغام موجود ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق سیول پر ایران جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے پارلیمانی سماعت میں یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ مشقوں میں کمی کا فیصلہ اچانک سامنے آیا۔
چو ہیون کے مطابق جنوبی کوریا اور امریکی حکام کو پہلے سے اس فیصلے کا علم نہیں تھا۔
فوجی مشقیں 21 اگست کو ختم ہوں گی
پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بھی فوجی مشقوں میں کمی کی تصدیق کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مشترکہ مشقیں طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ پہلے مکمل ہوں گی۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بھی شیڈول کی تصدیق کی۔
ان کے مطابق مشترکہ فوجی مشقیں 17 سے 21 اگست تک جاری رہیں گی۔
اس سے پہلے مشقوں کا شیڈول 17 سے 27 اگست تک مقرر تھا۔
امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی شراکت داری
امریکا اور جنوبی کوریا باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں۔
ان مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
یہ مشقیں خاص طور پر شمالی کوریا کے ممکنہ خطرات کے تناظر میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
مشقوں میں کمی کے حالیہ فیصلے نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
جنوبی کوریا اب امریکا کے اس فیصلے کے پس منظر کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران جنگ کے تناظر میں اہم پیش رفت
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سے متعلق کشیدگی جاری ہے۔
سیول نے اس سے قبل بھی علاقائی تنازعات میں محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔
مشقوں میں اچانک کمی نے امریکا کی ترجیحات کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تاہم واشنگٹن نے مشقوں میں کمی کو ایران جنگ سے جوڑنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
