Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ ظاہر کرنے والا ایک متنازع نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ نقشہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا۔
نقشے میں آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ کی پوسٹ پر ایران کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر امریکی پالیسی زیر بحث
ٹرمپ کی جانب سے نقشہ شیئر کرنے کو ان کے سابقہ بیانات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔
امریکی صدر اس سے قبل آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی بات کرچکے ہیں۔
رپورٹس میں بحری ناکہ بندی سے متعلق امریکی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ناکہ بندی 13 اپریل سے نافذ ہے۔
تاہم جون میں اسے عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا۔
بعد میں اسے دوبارہ بحال کردیا گیا۔
ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف
ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں نہیں ہے۔
ان کے مطابق نقشے کا مقصد امریکی صدر کے مؤقف کو ظاہر کرنا ہوسکتا ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت پالیسی پر قائم ہیں۔
تاہم نقشے کی قانونی یا سرکاری حیثیت واضح نہیں کی گئی۔
ایران کا سخت ردِعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی پوسٹ پر سخت ردِعمل دیا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کا مؤقف واضح کیا۔
قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے کئی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔
ان میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے خطے میں جاری جنگیں روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ایرانی اسپیکر نے مبینہ طور پر چوری کیے گئے ایرانی اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر بھی زور دیا۔
اس کے علاوہ ایران کے خلاف فوجی دھمکیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا بھی بیان
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کے مؤقف کو غلط فہمی قرار دیا۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران یہ غلط فہمی جلد دور کردے گا۔
ان کے بیان سے ایران کے سخت سفارتی مؤقف کا اظہار ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔
یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔
دنیا کی توانائی کی تجارت میں اس کا اہم کردار ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کرسکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
