Table of Contents
لندن: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ایران یورپ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام نے ایسے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں امریکی فوجی تنصیبات ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔
بلغاریہ اور قبرص میں موجود امریکی یا مغربی فوجی تنصیبات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں ان اقدامات کو ممکنہ آپشنز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ایران کا ردِعمل امریکی اقدامات سے منسلک ہوگا
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے ممکنہ ردِعمل کا انحصار واشنگٹن کے اقدامات پر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام امریکا کی آئندہ پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو ایران اپنے ردِعمل کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے۔
ایسے کسی بھی اقدام سے مشرق وسطیٰ کے تنازع کا دائرہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز میں فائبر آپٹک کیبلز بھی زیر غور
فنانشل ٹائمز نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیر سمندر کیبلز کے معاملے پر بھی غور کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کو نشانہ بنانے کا آپشن بھی زیر غور رہا ہے۔
یہ کیبلز عالمی مواصلاتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توانائی اور بحری تجارت کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے۔
یورپ میں تشویش بڑھنے کا خدشہ
یورپ میں امریکی فوجی تنصیبات کو ممکنہ ہدف بنانے کی اطلاعات نے علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
بلغاریہ اور قبرص کا نام سامنے آنے سے یورپی سلامتی کے بارے میں بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
اگر تنازع یورپ تک پھیلا تو امریکا کے اتحادی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
تاہم فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں ان ممکنہ اقدامات کی عملی منظوری یا حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز
آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔
اس گزرگاہ سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔
زیر سمندر مواصلاتی کیبلز بھی اس خطے سے گزرتی ہیں۔
کسی بڑے تعطل کی صورت میں توانائی اور مواصلاتی نظام دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔
