Table of Contents
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگوں کے تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں شروع ہونے والی جنگوں کے سنگین نتائج سامنے آئے۔ ان تنازعات میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔
گوتریس نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 ستمبر سے شروع ہوا ہے۔
جنگوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جنگوں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض تنازعات میں بھوک کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
گوتریس کے مطابق صرف عسکری طاقت سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح فوجی طاقت سے پائیدار اقتصادی استحکام بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
فلسطین کی صورتحال پر تشویش
گوتریس نے فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی علاقوں میں تباہی اور انسانی بحران کی طرف توجہ دلائی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔
گوتریس نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے کے الحاق کی پیش رفت رکنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ
انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو بھی ضروری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے مطابق سلامتی کونسل میں تبدیلی ہونی چاہیے۔
گوتریس کے مطابق جغرافیائی اور سیاسی اختلافات نے سلامتی کونسل کی کارروائی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مؤثر کثیرالجہتی نظام کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا۔
امن کے لیے سفارت کاری پر زور
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کو جنگوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق عالمی مسائل کا پائیدار حل طاقت کے استعمال کے بجائے بین الاقوامی تعاون سے ممکن ہے۔
