کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ کے بارے میں لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے ان کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد سے گزشتہ کئی گھنٹوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا اور ان کا موبائل فون بند جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حافظ حمداللہ اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ ضلع زیارت کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
حافظ خلیل کا کہنا تھا کہ اہلخانہ اور پارٹی کارکنان مسلسل رابطے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک براہ راست بات چیت ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری کی ڈپٹی کمشنر زیارت سے بات چیت ہوئی جس میں انہیں حافظ حمداللہ کی خیریت سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے یقین دہانی کرائی کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم ان کے مقام اور رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واقعے کے بعد جے یو آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ حافظ حمداللہ کے اہلخانہ بھی ان سے براہ راست رابطے کے منتظر ہیں۔
