امریکہ میں امیگریشن مہم کے مرکزی عہدیدار مائیک بینکس نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی کریک ڈاؤن پر نئی سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔
یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی تھیں جن میں متعدد موجودہ اور سابق سرحدی اہلکاروں نے بینکس پر کولمبیا اور تھائی لینڈ کے دوروں کے دوران جسم فروشی سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔
مائیک بینکس، جنہوں نے امریکی جنوبی سرحد پر ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ امیگریشن حکمت عملی کی قیادت کی، نے اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “انتہائی افراتفری والی سرحد کو تاریخ کی محفوظ ترین سرحد میں تبدیل کر دیا”۔
یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی تھیں جن میں متعدد موجودہ اور سابق سرحدی اہلکاروں نے بینکس پر کولمبیا اور تھائی لینڈ کے دوروں کے دوران جسم فروشی سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔
یو ایس کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے کمشنر Rodney Scott نے بینکس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرحدی تحفظ کے ایک انتہائی مشکل دور میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق ان الزامات کی ماضی میں دو مرتبہ تحقیقات بھی کی گئیں، تاہم امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں اس معاملے کو “بند” قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بینکس نے امریکا-میکسیکو سرحد کے قریب وسیع علاقوں کو “قومی دفاعی زون” قرار دینے کی حکمت عملی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جہاں ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان کا استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی عسکریت پسندی پر جاری تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے۔

