Table of Contents
اسلام آباد — وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے خوارج نے کیا۔
وزارت نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
ایک بیان میں وزارت نے افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزارت کے مطابق افغان طالبان کو ذمہ داری سے بچنے کے بجائے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش
وزارتِ اطلاعات نے افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
وزارت نے افغان طالبان کے ترجمان کی پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی کی مذمت بھی کی۔
بیان کے مطابق پاکستان پر الزام لگانے کے بجائے افغان طالبان کو دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
دوحہ معاہدے کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرے۔
وزارت کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت کافی نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت کو زبانی ہمدردی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
وزارت نے ان اقدامات کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق قرار دیا۔
پاکستان کے ردعمل سے متعلق مؤقف
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ مذاکرات کے نام پر پاکستانی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے تحت ضروری اقدامات کرے گا۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرات ختم کرنے کے لیے مکمل عزم اور صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی برادری سے کارروائی کا مطالبہ
وزارتِ اطلاعات نے عالمی برادری سے افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
بیان کے مطابق دہشت گردی کے خطرے کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔
وزارت نے کہا کہ افغان طالبان کو دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
