Table of Contents
کوہاٹ: کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب خودکش حملے میں 21 افراد شہید ہوگئے۔
شہید ہونے والوں میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ واقعے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ مقابلے میں 7 دہشت گرد بھی مارے گئے۔
پولیس لائنز کے قریب دو دھماکے
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کی تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی۔
اس کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ دھماکا اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ہوا۔
آئی جی کے مطابق حملوں میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 6 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔
103 زخمی ہسپتال پہنچے
حکام کے مطابق دھماکوں کے بعد 103 زخمی ہسپتال پہنچے۔
ان میں سے 34 زخمی زیر علاج ہیں۔
5 مریضوں کی لیپروٹومی بھی کی گئی۔ 4 زخمیوں کو پشاور منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دھماکے کے بعد ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
7 دہشت گرد مارے گئے
آئی جی خیبرپختونخوا نے دہشت گردوں کے حملے کی مزید تفصیلات بھی بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس لائنز کی مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گرد داخل ہوئے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
مقابلے کے آغاز میں دہشت گردوں کے سنائپر کو مار دیا گیا۔
آئی جی کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی نے کارروائی جاری رکھی۔
انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور سمیت 7 دہشت گرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری رہیں
پولیس کے مطابق کوہاٹ ہنگو روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز موقع پر پہنچیں۔
ریسکیو اور ریکوری گاڑیوں نے بھی کارروائی میں حصہ لیا۔
40 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں شامل رہے۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین نے کی۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس کا عزم
آئی جی خیبرپختونخوا نے حملے کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار ہے۔
ان کے مطابق بزدلانہ حملے پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
صدر زرداری کی حملے کی مذمت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔
صدر کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ طلب کرلی
وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کی۔
انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت پر رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم نے واقعے کی وجوہات کے بارے میں بھی رپورٹ مانگی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نوٹس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔
انہوں نے پولیس حکام سے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
انہوں نے اسے ناقابل قبول بھی قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں ضروری طبی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے زخمیوں کے فوری علاج کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
