Table of Contents
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پُرامید ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ موجودہ کشیدگی تشویش ناک اور ناپسندیدہ ہے۔
تاہم پاکستان امن عمل سے مایوس نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو مردہ یا غیرمؤثر قرار نہیں دیتا۔
ترجمان کے مطابق امن کے لیے فریم ورک اب بھی موجود ہے۔
پاکستان سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے لیے پُرامید
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو مسئلے کے حل کا بہترین راستہ سمجھتا ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ کشیدگی کو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ امن عمل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کا خواہاں ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر بھارت کا مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق مؤقف پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا کسی ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کرنا معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داریاں ختم نہیں کرتا۔
پاکستان نے بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق معاہدے کی ذمہ داریاں یکطرفہ فیصلے سے ختم نہیں ہوتیں۔
مشترکہ آبی وسائل کے لیے منفی مثال
طاہر حسین اندرابی نے بھارت کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ رویہ اُن خطوں کے لیے منفی مثال بن سکتا ہے جہاں مشترکہ وسائل قانونی معاہدوں کے تحت منظم ہوتے ہیں۔
پاکستان کے مطابق ایسے معاہدوں کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
اسلام آباد سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
