Table of Contents
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے انہیں سیکیورٹی فراہم کی۔ بن گویر نے وہاں یہودی مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔
انہوں نے مستقبل میں وہاں یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
بن گویر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل
عرب میڈیا کے مطابق بن گویر متعدد یہودی مذہبی پیشواؤں کے ہمراہ تھے۔
کئی آبادکار اور سیکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق بن گویر نے مشرقی حصے میں مذہبی رسومات ادا کیں۔
انہوں نے وہاں دعائیں بھی مانگیں۔
یہودی عبادت گاہ بنانے کا عندیہ
بن گویر نے مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کے حوالے سے اپنے خیالات بیان کیے۔
انہوں نے ماضی میں یہودیوں پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا۔
بن گویر کے مطابق 14 سال کی عمر میں یہاں دعا کرنا ممنوع تھا۔
ان کے مطابق معمولی بلند آواز میں دعا کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا جاتا تھا۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا۔
بن گویر نے بگل بجانے اور مذہبی دعائیں ادا کرنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بالآخر یہاں یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
مسجد اقصیٰ کا تاریخی انتظام
مسجد اقصیٰ کے حوالے سے 1967ء سے ایک تاریخی انتظام نافذ ہے۔
اس انتظام کے تحت غیر مسلموں کو احاطے میں عبادت کی اجازت نہیں۔
تاہم انہیں مخصوص اوقات میں وہاں جانے کی اجازت حاصل ہے۔
یہ انتظام مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت سے متعلق حساس معاملہ ہے۔
بن گویر کے دوروں پر پہلے بھی احتجاج
اتمار بن گویر 2022ء میں وزیر بننے کے بعد کئی بار مسجد اقصیٰ جا چکے ہیں۔
ان کے دوروں پر فلسطینی حلقے شدید احتجاج کرتے رہے ہیں۔
بن گویر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے حامی رہے ہیں۔
وہ مقبوضہ علاقوں سے فلسطینی آبادی کے انخلا کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
دوسری جانب بعض اسرائیلی آبادکار مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت گاہ چاہتے ہیں۔
فلسطینی حلقوں کی شدید مذمت
یروشلم گورنریٹ نے بن گویر کے تازہ اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطینی حکام نے اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔
انہوں نے اسے مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔
فلسطینی حکام کے مطابق اس اقدام سے مسجد کا اسلامی تشخص متاثر ہو سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ پر کشیدگی میں اضافہ
مسجد اقصیٰ پہلے ہی شدید سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا مرکز ہے۔
ایسے اقدامات سے صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس یہودی آبادکاروں کو مخصوص اوقات میں داخلے کی اجازت دیتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی نمازیوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی حیثیت خطے میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔
بن گویر کے حالیہ دورے نے اس معاملے پر بحث دوبارہ تیز کر دی ہے۔
