Table of Contents
امریکا نے منگل کو ایران میں پاسداران انقلاب کے اہداف پر نئے فضائی حملے شروع کر دیے۔
امریکی کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے حملوں کی تصدیق کی۔
کمانڈ کے مطابق کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکا نے یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد کیے۔
امریکی فوج نے ایران پر امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
حالیہ کشیدگی نے اس راستے سے تیل کی ترسیل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
پیر کو آبنائے ہرمز سے نکلنے والے دو ٹینکروں کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
اس خبر کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت پہلے ہی تقریباً 2 فیصد بڑھ چکی تھی۔
ٹینکروں سے متعلق رپورٹس کے بعد قیمت میں مزید اضافہ ہوا۔
ایران میں دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی سرکاری میڈیا نے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دیں۔
قشم جزیرے میں بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
نُور نیوز نے بندر عباس اور چابہار میں دھماکوں کی اطلاع دی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے IRNA نے جاسک اور سیریک میں بھی دھماکوں کی خبر دی۔
امریکی حکام نے فوری طور پر حملوں کے تمام اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
تاہم امریکی فوج نے کارروائی کو ایران کے حالیہ اقدامات کا جواب قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت جواب کی دھمکی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی ہوئی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آئندہ حملے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی نئی پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔
واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
ایران نے امریکی حملوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا کو اپنے نئے حملوں پر پچھتاوا ہوگا۔
تہران نے خلیج سے تیل کی برآمد روکنے کی بھی دھمکی دی ہے۔
اس صورتحال نے عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں نے خطے میں جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔
امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ممکنہ فضائی حدود کی بندش اور پروازوں میں خلل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
