Table of Contents
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج نے امریکا کے خلاف ’فیصلہ کن آپریشن‘ شروع کر دیا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فورسز نے خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اڈے اور مفادات ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں۔
امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
تسنیم نے ایرانی مسلح افواج کے حوالے سے کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی شروع کی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کے جنوبی علاقے میں امریکی حملے کا دعویٰ
ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی ایک امریکی حملے کی اطلاع دی ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکی فورسز نے جنوبی صوبے کرمان کے ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق جیروفٹ ہوائی اڈے پر امریکی حملہ کیا گیا۔
سرکاری ٹی وی نے کہا کہ یہ حملہ چند منٹ قبل کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقوں میں بھی کئی حملوں کی اطلاعات دی تھیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
ایران اور امریکا کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز موجودہ بحران کا اہم مرکز بن چکا ہے۔
یہ راستہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی اہداف پر جوابی کارروائی کے دعوے نے مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ
تازہ پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں وسیع فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا واضح عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا بھی ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی دے چکا ہے۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
ایرانی اور امریکی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اہم ہوگی۔
