Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امریکی تاریخ کا عظیم ترین صدر قرار دے دیا۔
ٹرمپ نے امریکی صدور کی اپنی پسند کے مطابق ایک درجہ بندی جاری کی ہے۔ اس میں انہوں نے خود کو ’’دی گریٹسٹ‘‘ یعنی عظیم ترین کے درجے میں رکھا۔
ٹرمپ نے یہ درجہ بندی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ فہرست میں کئی سابق امریکی صدور کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
واشنگٹن، لنکن اور روزویلٹ عظیم صدور میں شامل
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہام لنکن، جارج واشنگٹن اور فرینکلن ڈی روزویلٹ کو عظیم صدور میں شامل کیا۔
اس فہرست میں تھامس جیفرسن، اینڈریو جیکسن اور ووڈرو ولسن بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے تھیوڈور روزویلٹ، جان ایڈمز اور جیمز کے پولک کو ’’قریب قریب عظیم‘‘ صدور کے درجے میں رکھا۔
کلنٹن کو اوسط صدر قرار دے دیا
امریکی صدر نے سابق صدر بل کلنٹن کو ’’اوسط‘‘ صدور کی فہرست میں شامل کیا۔
ٹرمپ نے بعض دیگر سابق صدور کو بھی اوسط یا اوسط سے کم درجے میں رکھا۔ ان کی فہرست میں صدور کے لیے چھ مختلف درجے بنائے گئے تھے۔
بائیڈن، اوباما اور کارٹر کو ناکام قرار دیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کو ناکام صدور کی فہرست میں رکھا۔
انہوں نے سابق صدر بارک اوباما اور سابق صدر جمی کارٹر کو بھی اسی زمرے میں شامل کیا۔
سابق صدور یولیسس ایس گرانٹ اور وارن ہارڈنگ کو بھی ٹرمپ نے ناکام قرار دیا۔
ٹرمپ کی درجہ بندی ذاتی رائے پر مبنی
یہ درجہ بندی ٹرمپ کی اپنی رائے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسے امریکی صدور کے ماہرین کی باضابطہ تاریخی درجہ بندی نہیں سمجھا جاتا۔
تاریخ دانوں اور سیاسی ماہرین کی سابقہ جائزہ رپورٹس میں ٹرمپ کی پوزیشن اس سے مختلف رہی ہے۔ 2024 کے ایک معروف ماہرین کے سروے میں ٹرمپ کو امریکی صدور میں آخری نمبر پر رکھا گیا تھا۔
اسی سروے میں جو بائیڈن کو 14ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ اس لیے ٹرمپ کی تازہ فہرست اور ماہرین کی سابقہ درجہ بندی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے خود کو ’’عظیم ترین‘‘ صدر قرار دینا امریکی سیاسی حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے۔
