Table of Contents
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔
کمیشن نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس نے امریکی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
آر ایس ایس کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ
امریکی کمیشن نے آر ایس ایس کے خلاف ہدفی پابندیوں کی سفارش کی ہے۔
کمیشن نے آر ایس ایس کے بعض ارکان کے خلاف کارروائی پر زور دیا ہے۔ بعض بھارتی حکام کے خلاف بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق ان افراد پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے کا مطالبہ
امریکی کمیشن نے موہن بھاگوت کے امریکی ویزے پر بھی اعتراض کیا ہے۔
کمیشن نے امریکی حکومت سے ویزا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے مستقبل میں ان کے امریکا داخلے پر بھی پابندی کی سفارش کی ہے۔
موہن بھاگوت آر ایس ایس کے سربراہ ہیں۔ وہ 29 اگست کو نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کریں گے۔
یہ تقریب مین ہٹن میں منعقد ہوگی۔ اس اجتماع کو ’’یونیورسل اونیس سیلیبریشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش
امریکی کمیشن نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
کمیشن کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مختلف اقلیتوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
اس نے مذہبی آزادی کے حوالے سے بھارت میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کی ہے۔
کمیشن نے اس سے قبل بھی بھارت سے متعلق کئی رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان رپورٹس میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
آر ایس ایس پر کیا الزامات ہیں؟
امریکی کمیشن کے مطابق آر ایس ایس سے وابستہ بعض گروہوں پر اقلیتوں کے خلاف حملوں کے الزامات ہیں۔
کمیشن نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف مبینہ تشدد کا بھی ذکر کیا ہے۔
آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ تنظیم خود کو ایک ثقافتی اور سماجی تحریک قرار دیتی ہے۔
بھارت کا مؤقف بھی سامنے آگیا
بھارتی حکومت امریکی کمیشن کی تنقید مسترد کرتی رہی ہے۔
نئی دہلی نے کمیشن کو جانبدار ادارہ قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس کے کئی الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں سرکاری پالیسیاں تمام شہریوں کے لیے ہیں۔ حکومت مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی تردید کرتی ہے۔
موہن بھاگوت کی نیویارک تقریب متنازع
موہن بھاگوت کی نیویارک تقریب پہلے ہی تنازع کا شکار ہے۔
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی تقریب کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اجتماع کی حمایت نہیں کرتے۔
تاہم ممدانی نے نجی تقریب منسوخ کرنے کے شہر کے قانونی اختیار پر سوال اٹھایا ہے۔
دوسری جانب تقریب کے منتظمین اسے اتحاد کا اجتماع قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریب میں مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
امریکا میں بحث مزید تیز
امریکی کمیشن کے تازہ مطالبے سے تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔
ایک طرف آر ایس ایس اپنے مؤقف کا دفاع کر رہی ہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقے تنظیم پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔
اس صورتحال میں موہن بھاگوت کی نیویارک تقریب پر عالمی توجہ بڑھ گئی ہے۔
