Table of Contents
دمشق کی فوجداری عدالت نے شام کے سابق مفتی اعظم احمد حسون کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے انہیں تشدد پر اکسانے، قتل کو جواز فراہم کرنے اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
احمد حسون بشار الاسد کی حکومت کے دوران شام کے مفتی اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت 25 جون کو شروع ہوئی تھی۔
احمد حسون پر کیا الزامات تھے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت فوجداری عدالت کے چھٹے سیشن میں ہوئی۔ سیشن کی صدارت جج فخرالدین العریان نے کی۔
عدالت نے احمد حسون کو سرکاری منصب کا غلط استعمال کرنے کا بھی مجرم قرار دیا۔ ان پر سابق صدر بشار الاسد اور جنرل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ علی مملوک سمیت اعلیٰ حکام سے غیر معمولی روابط رکھنے کا الزام بھی تھا۔
حسون پر فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کے رہنماؤں سے بھی سرکاری دائرہ کار سے باہر تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔
مخالفین کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام
عدالت کے مطابق احمد حسون نے سابق حکومت کی فوج کے ارکان اور افسران کو مخالفین کے خلاف کارروائی کی ترغیب دی۔
ان پر ایسے میڈیا بیانات دینے کا بھی الزام تھا جنہیں شہریوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے طور پر دیکھا گیا۔ ان میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے شہری بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق حسون کی تقاریر اور بیانات میں مشرقی حلب اور ادلب کا خاص طور پر ذکر ہوتا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومت کی فوج سے ان علاقوں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
عبوری انصاف کے عمل کا حصہ
عدالت کی کارروائی میں عبوری انصاف کے قومی کمیشن کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ بین الاقوامی قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی سیشن میں شرکت کی۔
احمد حسون کے خلاف مقدمہ شام میں سابق اسد حکومت کے دور سے متعلق احتساب کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
