Table of Contents
تل ابیب: ترکی کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی پر اسرائیل نے سخت ردعمل دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بیان میں اردوان پر اسرائیل کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا گیا۔
نیتن یاہو کے دفتر کا سخت ردعمل
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اردوان اپنی مخالفت کو شام تک پھیلانا چاہتے ہیں۔
بیان کے مطابق اسرائیل ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اردوان پر کئی الزامات بھی عائد کیے۔
بیان میں انہیں ’’یہودی دشمن آمر‘‘ قرار دیا گیا۔
اسرائیلی حکومت نے اردوان پر حماس کی حمایت کا الزام بھی لگایا۔
اس نے ترکی پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
شام میں بڑھتی کشیدگی
ترکی اور اسرائیل کے درمیان شام کے معاملے پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
اسرائیل نے حال ہی میں شام کے ابو الظہور ایئربیس پر حملہ کیا تھا۔
اسرائیل کو شام میں ترک فوجی موجودگی پر اعتراض ہے۔
ترک حکام نے اسرائیل کے مؤقف کو مسترد کیا ہے۔
ترکی نے اسرائیلی حملے کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ترکی نے نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کی
ترکی نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔
ترک حکام نے انٹرپول سے ریڈ نوٹس کی درخواست بھی کی ہے۔
یہ کارروائی گلوبل صمود فلوٹیلا کے معاملے سے متعلق ہے۔
فلوٹیلا غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہا تھا۔
ترک عدالت میں نیتن یاہو سمیت 35 افراد کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔
اسرائیل کا ترکی کو جواب
نیتن یاہو کے دفتر نے ترکی کے اقدام کو مسترد کر دیا۔
بیان میں اسے اسرائیلی قیادت کو دباؤ میں لانے کی ناکام کوشش قرار دیا گیا۔
اسرائیلی حکومت نے کہا کہ وہ اپنی سلامتی کا دفاع جاری رکھے گی۔
اس نے ترکی کی علاقائی پالیسی پر بھی شدید اعتراض کیا۔
اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی
غزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔
اب شام کا معاملہ بھی دونوں کے درمیان نیا تنازع بن گیا ہے۔
حالیہ واقعات سے اسرائیل اور ترکی کے اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
