Table of Contents
تہران: ایران نے متحدہ عرب امارات کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ٹینکر کو آبنائے ہرمز کی شمالی گزرگاہ سے پکڑا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹینکر پہلے جبل علی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔
بعد ازاں اس کا رخ ایران کی جانب موڑ دیا گیا۔
ٹینکر بندر عباس لے جایا جارہا ہے
ایرانی میڈیا کے مطابق قبضے میں لیا گیا ٹینکر اب بندر عباس کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بندر عباس ایران کی اہم بندرگاہوں میں شامل ہے۔
رپورٹ میں ٹینکر کے نام یا کارگو کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اس کے قبضے میں لیے جانے کی وجہ بھی واضح نہیں کی گئی۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار
ٹینکر پر قبضے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔
اس گزرگاہ سے عالمی تجارت کے لیے بڑی مقدار میں تیل منتقل ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 18 اگست کو صرف 6 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
یہ تعداد گزشتہ 10 روز کی روزانہ اوسط سے کم ہے۔
یو اے ای نے ایران سے تجارت معطل کردی
ایران کی جانب سے ٹینکر قبضے میں لینے کے دعوے سے قبل متحدہ عرب امارات نے اہم فیصلہ کیا تھا۔
امارات نے ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین معطل کردیا۔
یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔
ایران نے یو اے ای کے بعض الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔
اقتصادی تعلقات پر مزید دباؤ
ایرانی ٹینکر قبضے کا دعویٰ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرسکتا ہے۔
یو اے ای ایران کے لیے اہم تجارتی مرکز بھی رہا ہے۔
تجارتی پابندیوں اور بحری کشیدگی سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
