Table of Contents
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو امت مسلمہ کے اتحاد، مشترکہ سلامتی اور دفاع کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ معاہدہ صرف تین ممالک کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ان کے بقول یہ مسلم دنیا کے اتحاد، سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے ایک اہم عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو بھی تقویت ملنے کی امید ہے۔
شہباز شریف، عاصم منیر اور محمد بن سلمان کی قیادت
طاہر اشرفی نے اس پیش رفت کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ترکیہ کی شمولیت سے اس مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت ملی ہے۔
طاہر اشرفی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور سلامتی کا تعاون خطے میں استحکام پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مسلم دنیا میں استحکام اور دہشتگردی کے خاتمے پر زور
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین کے مطابق اس نوعیت کا تعاون مسلم دنیا میں استحکام کے فروغ اور دہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر مذہبی اور تہذیبی یکجہتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"ہمارا اللہ ایک، ہمارا قبلہ ایک، ہمارے نبیؐ ایک، ہماری کتاب ایک اور ہمارا دفاع بھی ایک ہے۔”
فلسطین اور ارضِ حرمین کی سلامتی
طاہر اشرفی نے کہا کہ دفاعی تعاون کا یہ فریم ورک ان کے خیال میں آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ارضِ حرمین شریفین کی سلامتی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ان کے مطابق حرمین شریفین کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کی توقع
طاہر اشرفی نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید اسلامی ممالک اس دفاعی تعاون میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے بقول مسلم دنیا کے درمیان اتحاد، مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی روابط کو مزید اہمیت دے دی ہے۔
