Table of Contents
قومی پیغام امن کمیٹی ملک میں امن، محبت، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ کمیٹی نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف واضح قومی بیانیے کو بھی فروغ دیا ہے۔


چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف واضح مؤقف رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علماء نے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بے گناہ افراد کے قتل کے خلاف فتاویٰ جاری کیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علماء نے خودکش حملوں کے خلاف فتاویٰ دیے۔
بم دھماکوں کے خلاف بھی واضح فتاویٰ جاری کیے گئے۔
بے گناہ افراد کے قتل کی بھی مخالفت کی گئی۔
علماء و مشائخ نے دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے قومی سطح پر امن کے فروغ میں بھی حصہ لیا ہے۔
افغانستان سے دہشت گردی پر تشویش
طاہر اشرفی نے افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا پڑوسی ملک ہے۔
پاکستان نے 40 سال سے زائد عرصے تک افغان عوام کی میزبانی کی ہے۔
پاکستان نے مشکل وقت میں افغان عوام کی خدمت بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ان حملوں میں بے گناہ شہری جاں بحق ہو رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کوہاٹ میں حالیہ دہشت گردی کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان کیوں آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی بچے اور شہری ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اس صورتحال پر خاموشی ممکن نہیں۔
انہوں نے خطے کے ممالک سے سنجیدگی کا مطالبہ کیا۔
عالمی برادری کو بھی صورتحال پر غور کرنا ہوگا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف کو واضح کیا ہے۔
پاکستان امن کا خواہاں ہے
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے۔
تاہم قومی سلامتی کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کو اپنی سلامتی کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کا مرکز ہے۔
ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔
مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔
یہ افراد ملک کے امن کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
وہ پاکستان کے استحکام اور سلامتی میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔
قومی پیغام امن کمیٹی بھی اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔
طاہر اشرفی کے مطابق کمیٹی اتحاد کی عملی مثال ہے۔
یہ کمیٹی بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
بین المسالک ہم آہنگی بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
ازبک صحافیوں سے ملاقات
طاہر اشرفی نے یہ خیالات ازبک صحافیوں سے گفتگو میں بیان کیے۔
ازبکستان کے صحافی پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔
ملاقات میں قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔
علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری بھی اجلاس میں شریک تھے۔
علامہ محمد حسین اکبر بھی ملاقات میں موجود تھے۔
علامہ توقیر عباس نے بھی شرکت کی۔
ڈاکٹر آصف میر بھی اجلاس کا حصہ تھے۔
مفتی محمد کریم خان بھی موجود تھے۔
مولانا زبیر فہیم نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
مولانا حافظ محمد مقبول بھی شریک تھے۔
بھگت لال اور سردار شمشیر سنگھ بھی موجود تھے۔
دیگر علماء و مشائخ نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
