بخارسٹ: رومانیہ کی وزارت خارجہ نے روس کے ایک سفارت کار کو "پرسونا نان گراٹا” (Persona Non Grata) قرار دیتے ہوئے انہیں پانچ دن کے اندر رومانیہ چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رومانیہ نے مشاورت کے لیے ماسکو میں تعینات اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔
رومانیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 24 سے 26 جولائی کے دوران رومانیہ کی فضائی حدود کی متعدد مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد کیا گیا۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ان خلاف ورزیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے کیونکہ رومانیہ کی فضائی حدود نیٹو اور یورپی یونین کے دفاعی دائرہ کار کا بھی حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق روسی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جہاں انہیں ان ڈرونز کے ملبے کے حصے بھی دکھائے گئے جن کے بارے میں رومانیہ کے پراسیکیوٹرز کی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ روسی ساختہ تھے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ رومانیہ کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی ناقابل قبول ہے اور ان واقعات کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی پر ان کے اثرات کی مکمل ذمہ داری روس پر عائد ہوتی ہے۔
رومانیہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ نیٹو اور یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رومانیہ کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے والے تین ڈرونز کو مار گرایا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

