کینیڈا نے اپنے صحت کے نظام میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے اور طبی شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کے اہل ڈاکٹروں کے لیے امیگریشن قوانین میں اہم نرمی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مستقل رہائش (Permanent Residency) حاصل کرنے کے متعدد نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
کینیڈا کے محکمہ امیگریشن، مہاجرین اور شہریت (IRCC) کے مطابق دنیا بھر کے ڈاکٹر اب مختلف امیگریشن پروگراموں کے ذریعے مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ڈاکٹرز ایکسپریس انٹری، پروونشل نومینی پروگرام (PNP)، ریجنل اور دیگر علاقائی امیگریشن پروگراموں سمیت پانچ مختلف راستوں کے ذریعے مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
محکمہ امیگریشن نے مزید بتایا کہ جن ڈاکٹروں کو کسی صوبے یا علاقے کی جانب سے نامزد کیا جائے گا، انہیں 14 دن کے اندر تیز رفتار ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا تاکہ وہ مستقل رہائش کی درخواست زیر غور ہونے کے دوران بھی کینیڈا میں اپنی طبی خدمات انجام دے سکیں۔
حکومت نے یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ درخواست گزار ڈاکٹر اپنے اہل خانہ کو بھی امیگریشن درخواست میں شامل کر سکتے ہیں، تاکہ وہ بیک وقت اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو سکیں۔
بیان کے مطابق وہ ڈاکٹر جنہوں نے گزشتہ تین برسوں کے دوران کینیڈا میں کم از کم ایک سال کا طبی تجربہ حاصل کیا ہو، وہ ایکسپریس انٹری کی مخصوص کیٹیگری کے تحت درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔
اسی طرح پروونشل نومینی پروگرام (PNP) کے تحت ایسے ڈاکٹروں کے لیے 5 ہزار وفاقی امیگریشن نشستیں مختص کی گئی ہیں، جن کے پاس کسی کینیڈین صوبے یا علاقے کی جانب سے ملازمت یا نامزدگی کا خط موجود ہو۔
کینیڈا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ڈاکٹر ان پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تاہم انہیں اپنی پیشہ ورانہ اہلیت، تعلیمی اسناد، لائسنسنگ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات مقررہ ضوابط کے مطابق جمع کرانا ہوں گی۔

