واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کا اگلا دور 4 سے 6 اگست تک اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہوگا، جہاں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ملاقات کریں گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا مقصد گزشتہ ماہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد کو تیز کرنا، پائلٹ زون کے دائرہ کار کو وسعت دینا، تمام زیر التوا سرحدی تنازعات کا حل تلاش کرنا اور ایک جامع امن و سلامتی کے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی پائلٹ زون کے تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر اس منصوبے کو مرحلہ وار مزید علاقوں تک توسیع دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا استحکام قائم کیا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے جنوبی لبنان میں قائم ایک پائلٹ زون سے اپنی پہلی فوجی واپسی مکمل کی تھی، تاہم لبنانی حکام نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے لبنانی مسلح افواج کو اس علاقے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے میں رکاوٹ ڈالی۔
اس کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اقتدار اور سکیورٹی کی منتقلی کا عمل مجموعی طور پر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، اگرچہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر مزید انخلاء کے حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ سہ فریقی فریم ورک ہی دیرپا امن کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور اس پر مکمل عملدرآمد اسرائیل اور لبنان دونوں کے مفاد میں ہے۔ بیان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

