نیویارک: اقوام متحدہ میں یوکرین سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکا اور فرانس کے درمیان انسانی حقوق کے معاملے پر غیر معمولی سفارتی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں امریکی وفد نے فرانسیسی مؤقف کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔
امریکی نائب مستقل مندوب ڈین نیگریا نے واک آؤٹ کے بعد فرانس پر الزام عائد کیا کہ وہ "اخلاقی برتری” کا دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کو انسانی حقوق سمیت مختلف امور پر لیکچر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہر مشکل وقت میں فرانس کا ساتھ دیا، تاہم اب وہ توہین آمیز اور غیر مناسب بیانات کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب فرانس نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کی دوسری مدت کے لیے حمایت کی، جبکہ امریکا نے ان کی دوبارہ تقرری کی مخالفت کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وولکر ترک کے حق میں 144 ووٹ دیے جبکہ امریکا ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مخالفت کی۔
فرانسیسی مشن نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کبھی انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ اس مقام پر نہیں رہا اور عالمی برادری میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اس بیان کے جواب میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے فرانس پر الزام لگایا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ کھڑا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔
یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نیٹو، یورپی دفاع، ایران سے متعلق پالیسی اور دیگر عالمی امور پر پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔
فرانسیسی سفیر جیروم بونافونٹ نے اجلاس کے اختتام پر اپنے خطاب میں امریکی واک آؤٹ کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ فرانس اقوام متحدہ کے منشور، عالمی امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

