تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی کمرشل بحری جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا اور ایران اس واقعے کا مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی ہدایت پر ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ ان کے بقول دونوں رہنماؤں کو واضح کر دیا گیا ہے کہ ایران اپنے بحری جہاز پر حملے کا جواب دے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، شہریوں اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ ردعمل کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ بحیرۂ کیسپیئن میں ایک ایسے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر ایران کے لیے ہتھیار لے جا رہا تھا۔
تاحال یوکرین کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ایرانی تجارتی جہاز پر حملے سے متعلق دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

