لبنانی صدر جوزف عون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ لبنانی مسلح افواج (LAF) کی سیاسی اور عسکری حمایت جاری رکھے تاکہ ملک میں استحکام برقرار رکھنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر عون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حالیہ ٹیلیفونک رابطوں میں بھی صدر ٹرمپ سے دو اہم مطالبات کیے تھے، جن میں سیاسی حمایت اور لبنانی مسلح افواج کی مسلسل معاونت شامل ہے۔
صدر عون نے کہا کہ لبنانی فوج ملک کا سب سے قابل اعتماد قومی ادارہ ہے اور امن و استحکام کے قیام میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے بقول اگر لبنانی فوج کو مطلوبہ حمایت نہ ملی تو ملک دوبارہ انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے 1975 کی خانہ جنگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجی ڈھانچے کے کمزور ہونے سے مختلف مسلح گروہوں نے جنم لیا، جس کے نتیجے میں لبنان طویل عرصے تک خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا۔ عون نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ لبنان دوبارہ ایسے حالات سے دوچار ہو۔
لبنانی صدر نے زور دیا کہ انہیں لبنانی فوج کی قیادت اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے، جبکہ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ فوج اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہی۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گزشتہ ماہ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مستقبل میں مستقل امن معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔
صحافیوں نے ٹرمپ سے یہ بھی سوال کیا کہ آیا وہ اب بھی شام کی نئی حکومت کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے لبنان میں کردار دینے کے اپنے سابقہ تصور کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ محض ایک تصور تھا، تاہم ان کے خیال میں یہ قابل عمل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے اس پر مزید زور نہیں دیا۔
اس سوال پر کہ صدر عون آج کی ملاقات سے لبنان کے لیے کون سی عملی کامیابیاں حاصل کر کے واپس جائیں گے، صدر ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، "آپ کو جلد معلوم ہو جائے گا۔”
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی اور سرحدی انتظامات سے متعلق پیش رفت جاری ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور حزب اللہ کے اسلحے سے متعلق اقدامات بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

