اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئی کشیدگی اور فوجی کارروائی کے مختلف منظرناموں پر غور کے لیے چھ گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیا، جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اسرائیل دوبارہ فوجی مہم شروع کرے اور چند روز بعد امریکہ کی جانب سے اسے روکنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ مختلف ممکنہ حالات، مشترکہ حکمت عملی اور دونوں ممالک کے مفادات پر تفصیلی مشاورت کی۔
رپورٹ میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یروشلم کسی نئی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ مہم اپنے اہداف حاصل کر سکے اور اسے چند دن بعد سیاسی دباؤ کے باعث روکنا نہ پڑے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ گزشتہ تجربات کی روشنی میں اسرائیل ایسی کسی فوجی مہم میں شامل نہیں ہونا چاہتا جسے مختصر مدت بعد واشنگٹن کی درخواست پر ختم کرنا پڑے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئی کارروائی کا انحصار اس کے واضح مقاصد اور عملی نتائج پر ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکہ نے اسرائیل سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی ہو۔
دوسری جانب ایک اور اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند روز میں فیصلہ کریں گے کہ آیا ایران کے ساتھ مجوزہ 10 روزہ جنگ بندی کی ثالثی کی تجویز قبول کی جائے یا ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات اور کشیدگی کا راستہ اختیار کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے کی صورتحال پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں۔

