یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا جارحیت میں حصہ لیا تو مملکت کی تمام اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں عبدالمالک الحوثی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں ممالک خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل دنیا میں “شر اور عدم استحکام” کے بنیادی ذرائع ہیں اور ان کی پالیسیاں خطے میں مسلسل کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں۔
حوثی رہنما نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی مختلف جنگوں کو ہوا دے کر فلسطین سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں کے وسائل پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔
عبدالمالک الحوثی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ “گریٹر اسرائیل” کے قیام کا منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری متعدد تنازعات اور جنگوں کے پس منظر میں کارفرما ہے اور اسی مقصد کے تحت خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا، اسرائیل اور مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تاحال سعودی عرب، امریکا یا اسرائیل کی جانب سے عبدالمالک الحوثی کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

