پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر صرف تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے دفاع اور شہادت کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
کراچی میں پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اپنی ماؤں سے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ انہیں شہادت نصیب ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی والدین صرف مالی مفاد کے لیے اپنے بیٹوں کو قربانی کے لیے بھیج سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کی سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں، جبکہ شہداء کی عزت اور احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ شہداء کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو شہداء کے اہلِ خانہ سے معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے علماء کرام، مشائخ عظام اور اقلیتی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت انگیز بیانیے کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں، جنہیں مزید وسعت دی جانی چاہیے۔
اس موقع پر علامہ راغب حسین نعیمی نے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب کے درمیان مسلسل مکالمہ امن و ہم آہنگی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب معاشرے میں امن قائم ہوگا تو معاشی ترقی اور خوشحالی کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست اور حکومت کے درمیان اعتماد کے خلا کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ مدارس کے نصاب میں بہتری اور طلبہ کی مثبت ذہن سازی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں برداشت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔

