اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کریں اور جاری کشیدگی کا خاتمہ سفارتی ذرائع سے یقینی بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث خطے میں انسانی حقوق، شہری زندگی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی ایرانی حملوں سے شہری املاک متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
وولکر ترک نے زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں تاکہ شہری آبادی، طبی مراکز، بنیادی ڈھانچے اور شہری املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں کشیدگی میں اضافہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، معیشت اور انسانی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ نے کہا کہ موجودہ بحران کا واحد مؤثر حل سفارتکاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی ہے، اس لیے امریکا اور ایران کو عسکری کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
