اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب سن لی نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ، ایران، یمن اور بحرِ احمر کی موجودہ صورتحال میں واشنگٹن کے اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے چینی مندوب نے کہا کہ امریکا کی پالیسیوں کے باعث غزہ کا بحران بدستور جاری ہے اور واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کو اعتماد میں لیے بغیر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید خطرناک اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔
سن لی کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف سفارتی عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
چینی مندوب نے مزید کہا کہ امریکا یمن اور بحرِ احمر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی ذمہ دار ہے اور موجودہ بحرانوں کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سفارتی مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، بحری راستوں کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرے تاکہ مزید تصادم سے بچا جا سکے۔
