لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کے لیے اہم فلاحی اقدام کرتے ہوئے بیواؤں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کے لیے تاحیات پنشن کی سہولت دوبارہ بحال کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری کے بعد محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق سابقہ پالیسی کے تحت کسی سرکاری ملازم کی وفات کے بعد اس کی بیوہ یا غیر شادی شدہ بیٹی کو صرف 10 سال تک پنشن دی جاتی تھی، تاہم نئی ترمیم کے بعد یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے اور اب مستحق بیوائیں اور غیر شادی شدہ بیٹیاں تاحیات پنشن کی حقدار ہوں گی۔
نئے قواعد کے مطابق سرکاری ملازم کی وفات کے بعد اس کی بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹی کو قانون کے مطابق عمر بھر پنشن کی ادائیگی جاری رہے گی، تاکہ انہیں مستقل مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پالیسی میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر مرحوم سرکاری ملازم کی بیوہ دوسری شادی کر لے تو اس کی پنشن بند کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی متوفی ملازم کی ایک سے زیادہ بیوائیں ہوں تو پنشن کی رقم تمام بیواؤں میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے پنجاب کابینہ کے حالیہ اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے انتقال کے بعد ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً بیواؤں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں، کو طویل المدتی مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہزاروں مستحق خاندانوں کو معاشی سہارا ملے گا اور سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
