نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایرانی جوہری پروگرام کے اثرات پر بحث کرانے کی بین الاقوامی کوشش روس اور چین کے ویٹو کے باعث آگے نہ بڑھ سکی، جس کے بعد سلامتی کونسل میں اس معاملے پر شدید سفارتی بحث دیکھنے میں آئی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب نے روس اور چین کی جانب سے ویٹو کے استعمال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ایرانی جوہری معاملے پر کھلی بحث کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہے، حالانکہ سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک کو اس اہم عالمی مسئلے پر اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے اس حساس معاملے کا پرامن حل تلاش کریں۔
اجلاس کے دوران فرانسیسی مندوب نے مطالبہ کیا کہ ایران بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو یقینی بنائے، خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے اور مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرے۔
بحرین کے مندوب نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی کوششوں کے نتائج ایران کے عملی رویے میں نظر آنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس سے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی سفارتی پیش رفت کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل متعدد ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات پر باضابطہ اجلاس منعقد کرے۔
