غزہ: حماس نے غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہری امور کی نگرانی کے لیے ایک قومی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کی راہ ہموار کر دی ہے۔
حماس کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ کے مطابق ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، جس کے بعد کمیٹی کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد غزہ میں انتظامی اور حکومتی اختیارات کی منظم منتقلی کو یقینی بنانا ہے تاکہ مستقبل میں شہری انتظام ایک قومی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ذریعے چلایا جا سکے۔
"اب معاملہ ثالثوں کے ہاتھ میں ہے”
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے ترجمان نے کہا کہ تنظیم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اب آئندہ پیش رفت ثالث ممالک اور معاہدے کے ضامن فریقین پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ معاہدے کے ضامن ممالک اور امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طے شدہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
ثالثوں سے عملی کردار ادا کرنے کا مطالبہ
حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تنظیم نے اپنی جانب سے "گیند ثالثوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے” اور اب ثالث ممالک کو چاہیے کہ وہ فریقین پر دباؤ ڈالیں تاکہ قومی کمیٹی غزہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے معاہدے کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حماس کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے بعد وہ کسی بھی آئندہ انتظامی نظام یا حکومتی ڈھانچے کا حصہ بننے کی خواہش نہیں رکھتی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منتقلی کامیاب ہوتی ہے تو غزہ میں ایک غیر جانبدار ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار اسرائیل، فلسطینی دھڑوں اور بین الاقوامی ثالثوں کے درمیان آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔
