Table of Contents
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے بعض مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ میں مسیحی برادری کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ لبنان کے کچھ عیسائی دیہاتوں نے اسرائیل سے وابستہ ہونے کی درخواست کی کیونکہ اسرائیل انہیں حزب اللہ کے حملوں سے تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے ان دیہاتوں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ مبینہ درخواستیں سرکاری سطح پر کی گئی تھیں یا غیر رسمی طور پر۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل خطے میں مسیحیوں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہا ہے اور اسی وجہ سے بعض لبنانی دیہات اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خواہاں ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا مؤقف
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل کے لبنان میں مستقل علاقائی عزائم نہیں ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا جب تک حزب اللہ کو اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
لبنان کے مستقبل پر اظہارِ خیال
اپنے انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والے اسرائیل اور لبنان کے حالیہ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں مزید سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس خطے میں امن کے فروغ کے لیے مزید مواقع موجود ہیں اور ان کے بقول لبنان خود بھی حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔
دیگر مذہبی گروہوں سے متعلق بھی دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صرف مسیحی ہی نہیں بلکہ لبنان کے بعض دروز، سنی اور شیعہ مسلمان بھی حزب اللہ سے نجات چاہتے ہیں اور وہ ملک میں استحکام کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید امن معاہدوں کی امید موجود ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک
اگرچہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان باضابطہ امن معاہدہ موجود نہیں، تاہم امریکی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک کے تحت حزب اللہ کے تخفیف اسلحہ اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
