کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردوں نے رینجرز کے کیمپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 رینجرز اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ گلستانِ جوہر کے علاقے میں رینجرز کی گاڑی پر کیا گیا، جہاں رینجرز معمول کی سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی۔ حملے میں ایک خودکش حملہ آور سمیت مجموعی طور پر 6 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی اس کے جنگجوؤں نے انجام دی۔ جماعت الاحرار کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ایک شدت پسند گروہ ہے، جس کی جانب سے ماضی میں بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ وطن کے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے "عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ سے واقعے کی فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔
یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں کراچی ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں دو چینی شہری ہلاک ہوئے تھے، جبکہ فروری 2023 میں کراچی پولیس آفس پر حملے میں بھی متعدد افراد جان سے گئے تھے۔ حالیہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر اب بھی ملک کے معاشی مرکز کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے ان کے عزائم ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
