سربیا کے شمالی شہر نوی ساد میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے قبل از وقت عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ یہ احتجاج 2024 میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے المناک واقعے کی یاد میں منعقد کیا گیا، جس میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد شروع ہونے والی طلبہ کی قیادت میں حکومت مخالف تحریک اب ملک گیر سیاسی دباؤ کی شکل اختیار کر چکی ہے اور صدر الیگزینڈر ووچیچ کی 13 سالہ حکمرانی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
احتجاجی مظاہروں کا آغاز 2024 کے اس حادثے کے بعد ہوا تھا جب نوی ساد ریلوے اسٹیشن پر ایک سایہ دار چھت گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ یہ حادثہ حکومت کی ناقص پالیسیوں، تعمیراتی منصوبوں میں بدعنوانی اور انتظامی بدحالی کا نتیجہ تھا۔ اسی واقعے نے ملک بھر میں حکومت مخالف جذبات کو ہوا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے احتجاجی تحریک پورے سربیا میں پھیل گئی۔
ہفتے کے روز نوی ساد میں شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے "فتح” کے نعرے لگائے اور صدر الیگزینڈر ووچیچ اور ان کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی (SNS) کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ متعدد شرکاء نے "طلبہ جیت رہے ہیں” کے نعرے درج ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جبکہ بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
طلبہ تحریک سے وابستہ کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد آنے والے انتخابات میں صدر ووچیچ اور ان کی جماعت کو چیلنج کرنا ہے۔ اگرچہ سربیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات 2027 میں شیڈول ہیں، تاہم صدر ووچیچ نے حالیہ مہینوں میں عندیہ دیا ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
نوی ساد یونیورسٹی کی پروفیسر سانجا بیلچ نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات کے بغیر جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو آزادانہ طور پر اپنی رائے کے اظہار کا حق دیا جائے۔
احتجاج میں شریک پچاس سالہ گوران ساجن نے کہا کہ اب عوام کے پاس اپنی آواز بلند کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری خاموش رہے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر انتخابی دھاندلی، سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد، میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے، بدعنوانی اور منظم جرائم سے روابط جیسے سنگین الزامات بھی عائد کر رہی ہیں۔ تاہم صدر ووچیچ اور ان کے اتحادی ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپوزیشن سیاسی فائدے کے لیے جھوٹے الزامات لگا رہی ہے۔
ادھر صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا کہ ان کے حامی 27 جون کو ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غصے اور نفرت سے گریز کرتے ہوئے سربیا کے قومی پرچم تلے متحد ہوں۔
سربیا یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ملک ہے، تاہم برسلز نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت سے قبل سربیا کو قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات، بدعنوانی کے خاتمے اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔ اس کے علاوہ سربیا پر یہ دباؤ بھی موجود ہے کہ وہ روس اور یوکرین جنگ کے معاملے پر یورپی یونین کی پالیسیوں سے ہم آہنگی اختیار کرے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوی ساد میں ہونے والا حالیہ احتجاج اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت مخالف تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر صدر ووچیچ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہیں تو سربیا ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف ملکی سیاست بلکہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

