گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے بعد حکومت سازی کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی نے اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بننے کے بعد امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے عہدے کے لیے اپنا باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی صوبے میں نئی حکومت کے قیام کے لیے سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ گلگت ریجن سے تعلق رکھنے والے رہنما کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے، جسے علاقے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امجد حسین ایڈووکیٹ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر ہیں اور وہ حلقہ جی بی اے-1 گلگت سے کامیابی حاصل کر کے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے اب تک 24 میں سے 21 حلقوں کے سرکاری نتائج جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ تین حلقوں، جن میں جی بی اے-9 اسکردو-3، جی بی اے-15 دیامر-1 اور جی بی اے-17 دیامر-3 شامل ہیں، کے نتائج کا اعلان ابھی باقی ہے۔ جاری شدہ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کی ہیں، مجلس وحدت المسلمین کا ایک امیدوار کامیاب ہوا ہے جبکہ ایک آزاد امیدوار بھی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہا ہے۔
مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اسمبلی میں سیاسی قوت کا توازن مزید واضح ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کی 6 مخصوص نشستوں میں سے 3 پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 2 اور استحکام پاکستان پارٹی کو ایک نشست ملی ہے۔ اسی طرح ٹیکنوکریٹس کی 3 مخصوص نشستوں میں ایک ایک نشست پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آئی پی پی کو دی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ مخصوص اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کو شامل کرنے کے بعد پارٹی کو اسمبلی میں 17 سے 19 ارکان کی حمایت حاصل ہو جائے گی، جس کے باعث پیپلز پارٹی واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نئی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہوگی اور پارٹی عوامی مینڈیٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے لانا نہ صرف گلگت ریجن کی سیاسی نمائندگی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے گلگت بلتستان کی سیاست میں علاقائی توازن کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی آئندہ سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ باقی تین حلقوں کے نتائج حکومت سازی کے عمل پر مزید اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں اکثریت کی تصویر واضح ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب اور نئی کابینہ کی تشکیل کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد خطے میں نئی حکومت باقاعدہ طور پر اپنے فرائض سنبھال لے گی
