ازبکستان کے صدر Shavkat Mirziyoyev نے تاشقند انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں جاری معاشی اصلاحات کو مزید وسعت دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اقتصادی ترقی کے موجودہ سفر کو برقرار رکھتے ہوئے نئے مالیاتی اور قانونی ڈھانچے متعارف کرائے گی تاکہ ازبکستان کو خطے کے ایک اہم سرمایہ کاری مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔

صدر مرزیوئیف نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ازبکستان ان تمام سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتا ہے جو مساوی اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق حکومت سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ، کاروباری ماحول میں بہتری اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے Tashkent International Financial Centre کے قیام کا اعلان بھی کیا، جو ایک خصوصی ٹیکس اور کسٹم فری زون کے طور پر کام کرے گا۔ صدر کے مطابق یہ مالیاتی مرکز انگریزی کامن لا کے اصولوں کے تحت چلایا جائے گا تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ایک قابل اعتماد اور شفاف قانونی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
صدر مرزیوئیف نے بتایا کہ اس خصوصی مالیاتی مرکز میں منافع پر ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT)، پراپرٹی ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز کی شرح صفر فیصد رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو سرمائے کی آزادانہ منتقلی اور کسی بھی بین الاقوامی کرنسی میں لین دین کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق مالیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اثاثوں اور گرین فنانس کے فروغ کے لیے جدید ضابطہ جاتی نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ازبک صدر نے مزید اعلان کیا کہ ایک آزاد مالیاتی ریگولیٹر قائم کیا جائے گا جو مالیاتی مرکز کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی کا اختیار رکھے گا۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گا۔
وسطی ایشیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ازبکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تقریباً چار کروڑ آبادی والے اس ملک نے 2025 میں 7.7 فیصد معاشی ترقی ریکارڈ کی، جس کی بنیادی وجوہات نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور سونے کی بلند عالمی قیمتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ ازبکستان دنیا کے اہم سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جس سے ملکی معیشت کو نمایاں سہارا حاصل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے مالیاتی مرکز اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے ازبکستان خطے میں کاروبار، مالیاتی خدمات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پورے وسطی ایشیائی خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
