امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ متوقع معاہدے پر پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ معاہدے پر دستخط آئندہ چند روز میں، ممکنہ طور پر جمعے کو، ہو سکتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جی سیون رہنماؤں کو ایران معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے اور تمام شریک ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز کی بحالی اور عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر لانا مشکل ہو جاتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے افزودہ جوہری مواد کو غیر مؤثر بنانے کے لیے تکنیکی اقدامات کرے گا تاکہ دنیا کو ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی ایک نقل اسرائیل کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدے پر بہت جلد دستخط ہو جائیں گے، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی شرائط کا احترام نہ کیا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر تہران اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹا تو بمباری دوبارہ شروع ہو سکتی ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران دوبارہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے آمادہ نہ ہو جائے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک اچھا اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بعض اوقات جذباتی فیصلے کرتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر تعاون مثبت رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ لبنان میں استحکام اور پورے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے مزید پیش رفت ممکن ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ ایران میں براہ راست سرمایہ کاری نہیں کرے گا، البتہ خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی شراکت دار اس ضمن میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے باعث ایران کو تقریباً دو کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور اسے معاشی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے جنگ کے دوران غیر جانبدارانہ رویے کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چین اور روس نے ایران کی عملی حمایت کی ہوتی تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی تھی۔ اسی تناظر میں انہوں نے دونوں رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی صدر نے یورپی اتحادیوں اور جاپان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحران کے دوران ان ممالک کا کردار توقعات کے مطابق نہیں تھا، جبکہ چین اور روس نے کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابراہیمی معاہدے کو وسعت دینے کی خواہش رکھتے ہیں اور خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی گروپوں کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔
