فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی معاہدے پر دستخط مکمل ہو چکے ہیں، تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "معاہدے پر تمام دستخط ہو چکے ہیں” اور توقع ظاہر کی کہ اس پیش رفت سے خطے میں استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کے نائب صدر JD Vance جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والی رسمی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق ابتدائی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، جنگ بندی کے موجودہ انتظام کو مزید 60 روز تک توسیع دینا اور متنازع امور پر تفصیلی مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کیا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران فریقین ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور دیگر حساس معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔
معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی توقع نے توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی پیدا کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں ایران کو ممکنہ طور پر اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جن میں بعض پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور تعمیر نو سے متعلق مالی تعاون شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم ان فوائد کو ایران کی جانب سے مخصوص شرائط پوری کرنے سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ تہران نے اپنے بنیادی قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور مذاکرات کا عمل برابری کی بنیاد پر جاری رہے گا۔ ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی پیچیدہ معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، میزائل پروگرام اور مختلف مسلح گروہوں سے تعلقات جیسے موضوعات آئندہ مذاکرات میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران جاری کی جا سکتی ہیں، جس کے بعد اس کے عملی اثرات اور فریقین کی ذمہ داریوں کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آئے گی۔
