جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں لبنانی فوج کے ایک سینئر افسر سمیت دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
العربیہ اور الحدث کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے الخردلی اور نبطیہ کو ملانے والی سڑک پر لبنانی فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں لبنانی فوج کے بریگیڈیئر Wissam Sabra اور ان کے ہمراہ موجود ایک فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
دوسری جانب لبنانی فوج نے بتایا کہ یہ فضائی حملہ بیروت سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب میں واقع الخردلی-النبطیہ شاہراہ پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک برگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
لبنانی فوج نے اپنے موقف میں کہا کہ "یہ اسرائیلی حملے دراصل حل تک پہنچنے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں”۔ فوج نے عزم کا اظہار کیا کہ "لبنان، اس کے عوام اور فوج پر قابض اسرائیل کی اس دانستہ اور مسلسل وحشیانہ جارحیت کے باوجود، ان جارحانہ کوششوں کے خلاف ہماری چٹان جیسی سختی اور دفاع کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ دشمن کا مقصد ان تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام، مکمل جنگ بندی اور لبنانی سرزمین سے اسرائیلی انخلاء کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں”۔
فوج کی قیادت (ڈائریکٹوریٹ آف اورینٹیشن) نے شہید برگیڈیئر جنرل وسام صبرہ، شہید کیپٹن ایلی الخوری اور شہید فوجی حسین عبد العلی غزال کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جو چھ جون سنہ 2026ء کو الخردلی – کفرتبنیت (النبطيہ) شاہراہ پر دشمن اسرائیل کی فضائی بمباری کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔
لبنانی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے تناظر میں الخردلی۔نبطیہ روڈ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت متعدد فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
بیان میں اس حملے کو "وحشیانہ اسرائیلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ لبنان اور اس کے عوام مسلسل اسرائیلی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی افواج مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقوں میں متعدد جھڑپیں اور فضائی حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
