دبئی: ایران نے اپنے لبنانی اتحادی حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کسی بھی جامع امن معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا ناگزیر ہے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو نئی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ اور لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کسی بھی وسیع تر علاقائی امن فارمولے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک لبنان میں جنگی صورتحال برقرار رہے گی، خطے میں مکمل استحکام اور بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کے بغیر موجودہ بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی افواج ان تمام لبنانی علاقوں سے نکلیں جن پر ان کا قبضہ برقرار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے ایک مجوزہ معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے میں اسرائیلی انخلا کی کوئی واضح ضمانت شامل نہیں اور نہ ہی حزب اللہ کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی اور کارروائیاں فوری طور پر نہیں روکی جائیں گی۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ حزب اللہ نے حالیہ جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور ایران اپنے اتحادی کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ لبنان کے خلاف مزید عسکری کارروائیوں سے گریز کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، اسرائیل، حزب اللہ اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی خطے میں کسی بھی عبوری امن معاہدے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
