بیروت: جوزف عون نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنان کو "سودے بازی کے چپ” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جسے انہوں نے ناقابل قبول قرار دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لبنانی صدر نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کسی بھی بیرونی طاقت کے مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بننے چاہئیں۔
صدر جوزف عون نے بالواسطہ طور پر Islamic Revolutionary Guard Corps کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کسی دوسرے ملک کی ملکیت نہیں بلکہ لبنانی عوام کا خودمختار وطن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے مستقبل اور سلامتی سے متعلق فیصلے صرف لبنانی ریاست اور اس کے آئینی اداروں کو کرنے چاہئیں۔
لبنانی صدر نے مزید کہا کہ ان کا بنیادی مقصد لبنان کو خطے کے جاری تنازعات سے دور رکھنا اور ملکی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کو کسی بھی علاقائی یا بین الاقوامی محاذ آرائی میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے عوام مزید بحرانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اور تمام فریقین کو ملک کے استحکام اور خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی سنگین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے حالات میں لبنان کو علاقائی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا میدان بنانا نقصان دہ ثابت ہوگا۔
جوزف عون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر فریقین کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے جبکہ لبنان میں Hezbollah کے کردار اور ایران کے اثر و رسوخ پر بھی سیاسی بحث جاری ہے۔
