سنگاپور: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات پر بھارت کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تعلقات کو کسی بھی ملک کے خلاف اقدام یا دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
سنگاپور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران International Institute for Strategic Studies کے زیر اہتمام لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سفارتی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں اور یہ تعلقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔
بھارتی اخبار کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے قریبی اور برادرانہ تعلقات بھارت کے لیے مسئلہ نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو ترکیہ کی پاکستان کے ساتھ دوستی کو اپنے خلاف کسی اقدام یا مخالفانہ پالیسی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔
حاقان فیدان نے مزید کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی اسلام آباد کے ساتھ دوستانہ روابط رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات کی بنیاد پر ناراضی کا اظہار کیا جاتا ہے تو یہ سفارتی اصولوں کے مطابق مناسب رویہ نہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے بالواسطہ طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی سیاست میں ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتی تعلقات کے تعین کا خودمختار حق حاصل ہے، اور دیگر ممالک کو ان فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق حاقان فیدان کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ان تعلقات کو کسی بیرونی دباؤ یا تنقید کی بنیاد پر تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی مفادات، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کی بنیاد پر استوار ہو رہے ہیں، ایسے میں دیگر ریاستوں کے سفارتی فیصلوں کا احترام مؤثر خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
