Table of Contents
واشنگٹن: ایران جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات کے بعد پینٹاگون نے دفاعی کمپنیوں سے پیداوار اور ترسیل تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک میمو کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے دفاعی صنعت کو اہم ہتھیاروں کی تیاری میں فوری اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دفاعی کمپنیوں کو 21 دن میں منصوبے پیش کرنے کی ہدایت
امریکی ڈپٹی سیکریٹری دفاع اسٹیو فینبرگ نے دفاعی صنعت کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہم فوجی صلاحیتوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے پیش کریں۔
کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ 21 دن میں نئے منصوبے جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔
ان منصوبوں میں ہتھیاروں کی تیز تر ترسیل اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
طویل پیداواری عمل قابل قبول نہیں، پینٹاگون
اسٹیو فینبرگ نے کہا کہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے سالوں پر محیط ترقیاتی دور اب قابل قبول نہیں ہیں۔
انہوں نے دفاعی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت اور ترسیل کے شیڈول کو نمایاں طور پر تیز کریں۔
پینٹاگون کی یہ ہدایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے باعث امریکی فوج کے اہم ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔
میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی تشویش کا باعث
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ان رپورٹس کی تردید کی کہ وہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے میزائل انٹرسیپٹرز کے کم ہوتے ذخائر پر ناراض ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مزید بڑھانے سے قبل میزائل دفاعی نظام کے ذخائر سے متعلق خدشات پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
مبینہ طور پر انٹرسیپٹرز کی کمی ان اہم معاملات میں شامل تھی جن کا انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے جائزہ لیا۔
امریکی دفاعی صنعت پر پیداوار بڑھانے کا دباؤ
پینٹاگون کی تازہ ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافے کو ترجیح دے رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی توجہ خاص طور پر ان ہتھیاروں کی بروقت فراہمی پر ہے جن کی جنگی حالات میں زیادہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
دفاعی کمپنیوں کو موجودہ پیداواری عمل کا جائزہ لے کر زیادہ تیز تر اور مؤثر نظام وضع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
