واشنگٹن: امریکی زیرقیادت بورڈ آف پیس کے عہدیداروں نے پیر کے روز امریکی کانگریس کے دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عملے کو ایک اہم بریفنگ دی، جس میں غزہ میں حماس کی تخفیف اسلحہ (Disarmament) کے لیے جاری سفارتی اور سکیورٹی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔
بورڈ آف پیس کے مطابق وفد میں سینئر ایڈوائزر جوش گروئنبام اور سکیورٹی امور کے سربراہ جنرل (ر) مارک شوارٹز شامل تھے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں امن، سلامتی، مؤثر طرزِ حکمرانی اور تعمیر نو کے لیے امریکی کانگریس کے ساتھ دوطرفہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بورڈ آف پیس کے ایک اہلکار کے مطابق بریفنگ کے دوران امریکی قانون سازوں کے عملے کو حماس کی تخفیف اسلحہ سے متعلق جاری سفارتی پیش رفت، ممکنہ لائحہ عمل اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں امریکی کانگریس کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کے قومی سلامتی کے مشیروں نے شرکت کی۔ ان میں سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون، سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر، ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور اقلیتی رہنما حکیم جیفریز کے قومی سلامتی کے مشیر شامل تھے۔
بورڈ آف پیس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غزہ میں دیرپا امن، سلامتی اور تعمیر نو کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کو مضبوط بنانا اور سیاسی و سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ بریفنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں جنگ بندی، حماس کی تخفیف اسلحہ اور جنگ کے بعد کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
