میڈرڈ: اسپین نے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں بڑے پیمانے پر سرحدی خلاف ورزی کے بعد 48 ہزار 300 سے زائد تارکین وطن کو واپس مراکش بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی سرحدی داخلے کے بعد فوری طور پر شروع کی گئی۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز تقریباً 60 ہزار افراد غیر قانونی طور پر مراکش سے سیوتا میں داخل ہوئے تھے، تاہم اسپین نے بڑی تعداد میں تارکین وطن کو مختصر وقت میں واپس مراکش منتقل کر دیا۔
اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر بھی مراکش واپس چلے گئے، جبکہ متعدد تارکین وطن نے بتایا کہ شدید بھوک، تھکن، غیر محفوظ حالات اور مقامی سطح پر مخالفت کے باعث انہوں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔
اس بحران کے دوران اسپین پہنچنے کی کوشش میں 67 مراکشی تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔ ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد انسانی حقوق اور مہاجرین کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
مزید غیر قانونی آمد روکنے کے لیے اسپین نے سیوتا اور مراکش کے درمیان سمندری سرحد پر تقریباً 500 میٹر طویل رکاوٹی باڑ نصب کر دی ہے، جبکہ سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹلی نے اسپین کے ساتھ اپنی سرحدی نگرانی سخت کرنے اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سیوتا بحران نے نہ صرف اسپین اور مراکش کے درمیان سرحدی تعاون کو نئی آزمائش سے دوچار کیا ہے بلکہ یورپی یونین کی مشترکہ مہاجرت پالیسی، سرحدی سلامتی اور غیر قانونی نقل مکانی کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

