سکردو: پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے المناک واقعے میں عالمی شہرت یافتہ نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 9 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
نرمل پرجا کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نرمل پرجا جمعرات کو براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس مہم میں شامل دیگر ارکان میں سے بھی مجموعی طور پر 9 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے ابھی تک لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی اور ریسکیو ٹیمیں ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد کے مطابق ہفتے کی شام تک چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر کے سکردو منتقل کر دی گئی تھیں، جہاں انہیں ہسپتال رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مزید پانچ لاشوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، تاہم وہ انتہائی دشوار گزار اور خطرناک مقام پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نیچے لانا ریسکیو اہلکاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ امدادی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ محفوظ طریقے سے لاشوں کو منتقل کیا جا سکے۔
عرفان ارشد کے مطابق برآمد ہونے والی چوتھی لاش نیپالی کوہ پیما گیالو شرپا کی ہے۔
واضح رہے کہ نرمل پرجا 2019 میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو صرف چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کر کے عالمی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ ان کی یہ کامیابی کوہ پیمائی کی تاریخ کے نمایاں ترین کارناموں میں شمار کی جاتی ہے۔
براڈ پیک پر پیش آنے والا یہ حادثہ حالیہ برسوں کے مہلک ترین کوہ پیمائی سانحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

